بلاگخوش آمدید

مسیحی فِرقے اور غیر اقوام کے اعتراضات

مسیحی لوگ چاہے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں یا چاہے عُمر کے کسی بھی حِصّہ میں ہوں، اکثر و بیشتر ہر کوئی کسی نہ کسی مُقام پر کسی ایسے شخص سے ضرور روبرو ہوتا ہے جو مسیحیت اور مسیحی عقائد کے غلط ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسی صُورتِ حال میں ہوتا یہ ہے کہ جِس شخص سے سوال پُوچھا جاتا ہے وہ یا تو یہ کہہ کر جان چُھڑا لیتا ہے کہ ’’ہمیں مذہب پر بات نہیں کرنی چاہیے‘‘ یا پھر ناکافی عِلم ہونے کی وجہ سے ناقدین کی ہر قِسم کی جھوٹی سچی کہانیوں سے مُتاثر ہو کر مسیحیت کو الوداع کہہ کر دائرہِ اِسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ میری مُراد مسیحی عُلما کرام سے نہیں بلکہ سادہ لوح، معصوم اور عِلم سے ناواقِف لوگوں سے ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اکثریت میں پائے جاتے ہیں۔ اِس صُورتِ حال کے پیشِ نظر ایک بہت اہم اور سادہ سوال جو اکثر مسیحیوں کے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’ایسی کیا وجہ ہے کہ غیر اقوام مسیحیت، بائبل اور مسیحی عقائد کو تنقید کا نِشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ایک منطقی جواب کی بجائے ایک جذباتی جواب جو اکثر لوگ اپنے دِل کو تسلی دینے کے لئے دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ: دراصل مسیحیت میں فِرقے بہت زیادہ ہیں۔ اور یکجہتی کی عدم موجودگی کی وجہ سے غیر اقوام مسیحیت پر سوالات سے وار کرتی ہیں۔ لہٰذا، مسیحیت میں فِرقوں کا ہونا جائز نہیں۔ اگر سب ایک ہونگے تو کسی قوم کو موقع نہیں ملے گا کہ وہ مسیحیت پر سوال اُٹھائے۔

خیر! ذاتی طور پر میں اِس بات سے اِتفاق کرتا ہُوں کہ مسیحیت کا فِرقوں میں بٹنا کئی سطحوں پر نُقصان دہ اور غلط ہے۔ لیکن ایک بہت خاص بات جِس پر میں آپ کی توجہ دِلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جِس طرح شراب کی بوتل پر دُودھ کا لیبل لگانے سے وہ دُودھ نہیں بن جاتی اِسی طرح بائبل مُقّدس کو ہاتھ میں تھام کر پُلپٹ پرچڑھ جانے سے ہر کوئی مسیحی نہیں ہو جاتا۔ تمام فِرقے ’’ مسیحی‘‘ نہیں ہیں بلکہ اُن میں بیشتر بِدعات ہیں چنانچہ اُنہیں ’’ مسیحی‘‘ کہنا بھی بائبل مُقدس کی روشنی میں غلط ہے۔ لہٰذا ایسے بدعتی فِرقوں کو ’’مسیحی فِرقے‘‘ سمجھ کر خوامخواہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دُوسری بات یہ ہے کہ جو واقعی میں ’’ مسیحی فِرقے‘‘ ہیں اُن میں بُنیادی تعلیمات پر زیادہ اِختلاف نہیں پایا جاتا۔ مِثال کے طور پر تثلیث، ابنیتِ مسیح، اور کفارہ وغیرہ پر تمام مسیحی فِرقے متفقہ رائے رکھتے ہیں۔ اور اگر کہیں اِختلافات ہیں بھی تو ہم اُنہیں صحیح یا غلط کہنے کے پیمانہ سے ناپنے کی بجائے صِرف الگ الگ نظریات سمجھ کر اُن پر بحث ( مُناظرہ ) کریں تو کافی مسائل کا حل نِکل سکتا ہے۔

جہاں تک بات رہی غیر اقوام کی تو وہ ہم سے سوالات اِس لئے نہیں پُوچھتے کیونکہ مسیحیت میں کئی فِرقے ہیں بلکہ کیونکہ درحقیقت، غیر اقوام تو کیا مسیحیوں کو خُود ہی نہیں پتہ کہ ’’ مسیحی فِرقے‘‘ کتنے ہیں؟ چنانچہ اِس بات کو جواز کے طور پر پیش کرنا قطعاً درُست نہیں۔ دراصل، غیر اقوام ( خصُوصی طور پر اہلِ اِسلام ) اِس لئے مسیحیت پر سوالات اُٹھاتے ہیں کیونکہ اُنکے نزدیک ہمارا اِیمان اور ہمارے عقائد نامعقول ہیں۔ آپ یقین کیجئے، اگر تمام فِرقے ختم بھی ہو جائیں تو بھی سوالات کی بھرمار ہوتی رہے گی۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ بطور مسیحی ہم بائبل مُقّدس کا درُست اور مُکمل طور سے مُطالعہ کریں۔ تاکہ ہم اِس قابل ٹھہریں کہ غیر اقوام کے سوالات کے جوابات جذبات کا سہارا لینے کی بجائے منطق اور دلیل کے ساتھ دیں۔ سب سے پہلے تو ہمارے بِشپ اور پادری صاحبان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی دُکانداری چمکانے کی بجائے کلیسیاء پر غور کریں اور اِس بات کو سمجھیں کہ لوگوں کی علمی ضروریات کیا ہیں؟ اکثریت کا یہ حال ہے کہ چھوٹے خُدام سے لے کر بڑے بِشپوں تک سب کے پاس 3 سے 4 مضامین ہیں جِن کی تبلیغ وہ ہر اتوار اپنے چرچز میں کرتے ہیں۔ ’’ دُعا ‘‘ ’’ روزہ ‘‘ ’’ توبہ ‘‘ اور ’’ ہدیہ ‘‘ وہ مضامین ہیں جِن کی تبلیغ کی سائیکل ہر اتوار گرجاگھروں میں چلتی رہتی ہے۔ اگر کوئی بہت بڑی چھلانگ مارے تو لوگوں کو اِیمان کی مضبوطی کے بارے میں سکھانا شروع کر دیتا ہے یا پھر مُکاشفہ کی کِتاب کی من مانی تفسیر سُنا کر خواہ مخواہ لوگوں کو بور کرتے رہتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ نوجوان قیادت تو ویسے ہی گرجاگھروں میں کم دیکھی جاتی ہے اور جو نوجوان جاتے ہیں اُن میں سے اکثریت اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو غلط خواہشات اور اِرادوں کو پُورا کرنے کی غرض سے گرجاگھر جاتے ہیں۔ نہ تو اُنکو اِس بات سے غرض ہوتی ہے کہ کلام کون سُنا رہا ہے اور نہ اِس بات سے کہ کلام کِس بارے میں تھا ؟ جہاں تک بات رہی بزرُگ یا mature لوگوں کی تو اُن بیچاروں کو بھی 45 مِنٹ سے 1 گھنٹے کا لیکچر سُننا کِسی پہاڑ ہٹانے کے مترادف لگتا ہے۔ اگرچہ پیغام میں کئی دفعہ اِلفاظ مختلف ہوسکتے ہیں لیکن مفہوم وہی رہتا ہے۔ لہٰذا جِس دوران خادم مُنادی کر رہا ہوتا ہے اُس دوران کئی لوگ:

1. یا تو سو رہے ہوتے ہیں 
2. ۔ یا پھر پنکھوں( fans ) کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں
3. ۔ یا موبائل فون کو بار بارunlock کر کے پھر lock کرتے ہیں
4. یا پھر اُنکی ساری کی ساری توجہ پادری کی طرف ہوتی ہے لیکن دِماغ دُنیا کی سیر کر رہا ہوتا ہے
5. یا پھر جِس کارپٹ پر بیٹھے ہوتے ہیں اُس میں سے دھاگے کھینچتے رہتے ہیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس ساری صُورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟ اگرچہ میں پہلے ہی اِشارہ کر چُکا ہُوں لیکن صاف اِلفاظ میں بھی بتلا دیتا ہُوں کہ ذِمہ دار چرواہے یعنی پادری اور بِشپ صاحبان ہیں۔ ہمارے مذہبی پیشواؤں کو چاہیے کہ مسیحیت اور کلیسیاء کی ترقی اور مضبوطی کے لئے سنجیدگی سے کام کریں۔ اُنہیں چاہیے کہ نرم غزا چھوڑ کر کلیسیاء کو ٹھوس اور ضروری غزا سے سیر کریں تاکہ وہ کمزوریوں کے باعث اپنا مذہب نہ چھوڑیں۔ مذہبی پیشواؤں کو چاہیے کہ کلیسیاء کو اُن حقائق کے متعلق سکھایا جائے جِن کی وجہ سے ہم مسیحی کہلاتے ہیں۔ تثلیث، مسیح کی الوہیت، موروثی گُناہ، کفارہ، تصلیب و قیامت المسیح، مسیحی تصورِ نِجات اور بائبل مُقّدس کی صداقت وغیرہ ہمارے اِیمان کی بُنیادی تعلیمات یا Basic Doctrines ہیں۔ یہی وہ حقائق اور تعلیمات ہیں جِن کو غیر اقوام سمجھنے سے قاصِر ہیں چنانچہ وہ اِن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اُنکا ہمارے اِیمان پر سوالیہ نشان بنانے کا ہر گِز یہ مطلب نہیں کہ مسیحیت ایک جھوٹا مذہب ہے بلکہ اِسکا یہ مطلب ہے کہ کلامِ مُقدس کے مُطابق ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنے اِیمان کا دِفاع کرتے ہُوئے اُنہیں مُدلل اور درُست جواب دیں:

اے پیارو! جس وقت میں تُم کو اس نجات کی بابت لکھنے میں کمال کوشِش کر رہا تھا جس
میں ہم سب شریک ہیں تو میں نے تُمہیں یہ نصیحت لکھنا ضرور جانا کہ تُم اُس اِیمان کے واسطے
جانفشانی کرو جو مُقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا ‘‘ ( یہوداہ 1 : 3 )

بلکہ مسیح کو خُداوند جان کر اپنے دِلوں میں مُقّدس سمجھو اور جو کوئی تُم سے تُمہارے اُمید
کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کیلئے ہر وقت مُستعِد رہو مگر
حلم اور خوف کے ساتھ ‘‘ ( 1 – پطرس 3 : 15 )

لیکن بائبلی تعلیمات کا دِفاع تو دُور کی بات ہم تو اُس کو ٹھیک طور سے بیان بھی نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ ہم خُود اُن تعلیمات اور عقائد کو سمجھنے سے قاصِر ہیں جن کو ماننے کی وجہ سے ہم مسیحی ہیں۔ ایسا اِس لئے ہے کیونکہ ہمیں سِکھانے والے یا تو خُود اِن تعلیمات کی تفصیلات سے ناواقِف ہیں یا پھر اُنہوں نے جان بُوجھ کر ہمیں اندھیرے میں رکھا ہے۔ وجہ جو بھی ہو، نُقصان سادہ لوح اور عِلم سے ناواقِف مسیحیوں کا ہو رہا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا، کئی مسیحی جوابات نہ ملنے کی وجہ سے مسیح یعنی ہمیشہ کی زندگی کے بانی کا اِنکار کر رہے ہیں اور اِس بات کے ذمہ دار جتنے وہ خُود ہیں اُن سے کہیں زیادہ ہمارے مذہبی رہنما ہیں۔

لہٰذا، ہمارے مذہبی پیشواؤں کو پہلے بائبل مُقّدس کو خُود پُوری دیانتداری کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے اور پھر کلیسیاء کو بھی موثر طور سے سِکھانے کی ضرورت ہے۔ نہ صِرف یہ بلکہ مُناظروں کو گرجاگھروں میں عام کرنا چاہیے تاکہ جِن تعلیمات کی ہم پیروی کرتے ہیں اُن کو مُناظروں کے ذریعے زیرِ بحث لا کر اچھے طریقے سے سمجھا جا سکے۔ اِس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نہ صِرف مسیحی دُوسروں کو موثر جواب دینا سِیکھ جائیں گے بلکہ بہت سے لوگ غیر اقوام میں موثر طور سے مُنادی کا کام بھی سر انجام دے سکیں گے۔

میتھیو سلیمان
لاہور – پاکستان

Previous post

ڈر لگتا ہے - ایک سہمے ہوئے بچے کی داستان

Next post

مسیح میں ایک دوسرے کو معاف کریں اور صلح کی طرف ہاتھ بڑھائیں

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.