بلاگخوش آمدید

آخری کھانا کیا ہے اور اسکی مسیحیت میں کیا اہمیت ہے؟

ہم مسیحی آخری کھانا اس کھانے کو کہتے ہیں جو یسوع المسیح نے گرفتار ہونے سے پہلے اپنے شگردوں کے ساتھ کھایا تھا۔ آخری کھانے کا ذکر انجیل مقدس میں بہت جگہ ملتا ہے.

متی 26 باب 20 تا 30 آیت: “جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا. اور جب وہ کھا رہے تھے تو اس نے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کے تم میں سے پکڑوائے گا. وہ بہت ہی دلگیر ہوئے اور ہر ایک اس سے کہنے لگا اے خداوند کیا میں ہوں؟ اس نے جواب دیا جس نے میرے ساتھ طباق میں ہاتھ ڈالا ہے وہی مجھے پکڑوائے گا. ابن آدم تو جیسا اس کے حق میں لکھا ہے ہو ہی جاتا ہے لیکن اس آدمی پر افسوس جس کے وسیلہ سے ابن آدم پکڑوایا جاتا ہے! اگر وہ آدمی پیدا نہ ہوتا تو اس کے لیے اچھا ہوتا. اس کے پکڑوانے والے یہوداہ نے جواب دیا کیا اے ربی کیا میں ہوں؟ اس نے اس سے کہا تو نے خود کہہ دیا. جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگروں کو دے کر کہا لو کھاؤ یہ میرا بدن ہے. پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور ان کو دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو. کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروں کے لیے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے. میں تم سے کہتا ہوں کے انگور کا یہ شیرہ پھر کبھی نہ پیوں گا”۔

یہ مسیح کے وہ الفاظ ہیں جو اس نے آخری کھانا کھاتے وقت اپنے شاگروں سے کہے تھے. یہ کھانا یسوع المسیح کے لیے آخری کھانے سے بھی کچھ زیادہ تھا، اور سب سے اہم موقع وہ تھا جب یسوع المسیح نے ان کو بتایا کے میں تمام بنی نوع انسان کی خاطر خون بہاؤں گا تاکہ ان کے گناہوں کا فدیہ دے سکوں. لوقا 22 باب 19 آیت: “پھر اس نے روٹی شکر کر کے توڑی اور یہ کہہ کر ان کو دی کہ یہ میرا بدن ہے جو تمہارے واسطے دیا جاتا ہے. میری یادگاری کے لیے یہی کیا کرو”۔

آخری کھانے کے وقت یسوع المسیح کے یہ الفاظ کہ زندگی کی روٹی میں ہوں اور جو کوئی مجھ پر ایمان لائے گا کبھی پیاسا نہ رہے گا. میں ہی وہ زندہ روٹی ہوں جو آسمان سے آئی اور جو کوئی بھی یہ روٹی کھاۓ گا ہمیشہ کی زندگی پاۓ گا اور یہ روٹی میرا بدن ہے۔

آخری کھانے کے وقت یسوع المسیح نے ہمیں خدمت اور معاف کرنے کا درس بھی دیا جیسا کے اس نے اپنے شاگرد کے پاؤں تک دھوئے تھے۔

آج کے دور میں خدا کا کھانا اور اسکا بدن پانے کا ایک ہی زریعہ ہے کہ ہم خدا کی قربانیوں کو جانیں اور اپنے ایمان کے وسیلہ سے اسکو حاصل کریں اور ایسا کرنے سے ہم ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے. لوقا 22 باب 18 آیت: “دیکھ میں دروازہ پر کھڑا ہوا کھٹکھٹاتا ہوں، اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے گا تو میں اس کے پاس اندر جا کر اس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ”۔

ہمیں یسوع المسیح کو جاننے اور اسکو اپنے اندر داخل کرنے کی ضرورت ہے تب ہی ہم ہمیشہ کی زندگی اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کے قابل ہو سکتے ہیں. آمین!

Previous post

زندگی کا پیغام

Next post

محبت مہربان ہے

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.