خوش آمدیدویڈیوزپاسٹر پرویز کھوکھر

یسوع مسیح کا جی اُٹھنا

میرے عزیز بہنوں بھائیوں آج ہم دیکھیں گے کہ یسوع مسیح مصلوب ہوا اور وہ صلیب پر مرا، قبر میں پڑا اور تیسرے دن مردوں میں سے جی اُٹھا۔ ہم کوشش کریں گے کہ کچھ چیزیں قرآن سے متعلقہ بھی کریں تاکہ میرے اہلِ اسلام بھائی بہنیں، بزرگ وہ اِس بات کو سمجھ سکیں۔ ہم دیکھتے ہیں یوحنا رسول کی انجیل اُس کے 19 باب کے اندر یہ ذکر ملتا ہے۔

پس وہ یسوع کو لے گئے اور وہ اپنی صلیب کو اُٹھائے ہوئے اُس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے. جس کا ترجمہ عبرانی میں “گلگتا” ہے وہاں اُنہوں نے اُس کو اور اُس کے ساتھ دو اور شخصوں کو مصلوب کیا ایک کو اِدھر اور دوسرے کو اُدھر اور یسوع بیچ میں تھا. اب ہم یہاں پر دیکھ رہے ہیں کہ یسوع کو صلیب پر چڑھایا گیا اور وہ صلیب پر مرا اب مرنے سے تھوڑا ہم حوالہ لیتے ہیں قرآنِ پاک سے کہ جیسے کہ سورۃ مریم کے اندر آتا ہے یسوع نے کہا “مبارک وہ دن جس دن میں پیدا ہوا، مبارک وہ دن جس دن میں مرونگا، مبارک وہ دن جس دن میں جی اُٹھ کر آسمان پر جاؤں گا”۔ 

تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں اہلِ اسلام آپ قرآنِ پاک میں سورۃ مریم کو بڑے دھیان سے پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ مصلوب ہوا تو اِس میں کوئی الجھن نہیں رہ جاتی، اِس میں کوئی الجھن نہیں کہ وہ مصلوب نہیں ہوا۔ تو آگے چلتے ہیں اور پیلاطوس نے ایک کتابچا لکھ کر صلیب پر لگا دیا اُس میں لکھا تھا کہ یسوع ناصری یہودیوں کا بادشاہ اور جب یہودیوں نے اُسے پڑھا تو وہ بڑے خفا ہوئے کہ یہ تو نے کیا لکھ دیا یہودیوں کا بادشاہ پلاطوس کہتا ہے کہ جو میں نے لکھ دیا سو میں نے لکھ دیا۔

عزیز بہنوں بھائیوں آگے جا کر ہم دیکھتے ہیں جب کہ وہ مصلوب ہوا اور پھر یوسف اور نکودیمس وہ یسوع کی لاش کو پلاطوس سے لینے کے لیے آتے ہیں اور باقائدہ لکھا ہے کہ پھر اُسے قبر میں رکھا گیا اور اُس کو دفنایا گیا یہ کلامِ خدا بڑی وضاحت کے ساتھ کہتا ہے۔ تو جیسے کہ میں نے اِس چیز کو قرآنِ پاک سے متعلقہ کیا ہے سورۃ مریم کے ساتھ کہ وہاں پر لکھا ہے کہ وہ دن کا تھا جب اُس نے مستقبل کی باتیں بتائیں تھیں کہ میں مروں گا، تو وہ صلیب پر مرا کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ گہری نیندہ میں سو گیا یاں پھر کسی ہم شکل کو مسیح کی جگہ پر صلیب پر دیا گیا۔ تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں ایسی بات نہیں کیونکہ اگر ہم یہ بات سوچتے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ خدا نے دھوکا دیا، خدا دھوکے باز نہیں ہے، خدا انسان کو دھوکا نہیں دیتا۔

کلامِ خدا یہ کہتا ہے۔ پھر ہم قرآن پاک کو دیکھتے ہیں کہ وہ مرا اُس نے کہا کہ میں مروں گا، مستقبل کی بات ہے نا تو وہ صلیب پر مرا میرے عزیز بہنوں بھائیوں اور پھر مرنے کے بعد تیسرے دن جی اُٹھا۔ پھر لکھا ہے جو تیسری بات یسوع مسیح نے کی کہ میں جی اُٹھ کر آسمان پر جاؤں گا تو کلامِ خدا بھی یہی بات کہتا ہے کہ جب وہ جی اُٹھا تو چالیس روز تک وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ گھومتا رہا اور اُن کے ساتھ آسمان کی بادشاہت کی باتیں بھی بانٹیں اور اُس کے بعد وہ آسمان پراُٹھا لیا گیا۔ یہ جو بات ہوئی تھی کھولے الفاظ میں ہوئی اور اِس میں کوئی پوشیدہ بات نہیں تھی اور خداوند ایک جلوس کی شکل میں گیا۔

لوقا کی انجیل میں لکھا ہے کہ جب وہ آلمِ روا میں اتارہ گیا وہاں پر بھی اُس نے قیدی روحوں کے ساتھ منادی بھی کی تھی۔ میرے عزیز بہنوں بھائیوں اور جب وہ آسمان پر اُٹھایا گیا تو وہ قیدی روحوں کو اپنے ساتھ لے کر آسمان پر چلا گیا۔ آئیں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع نے کیا کہا۔ چالس روز تک اپنے شاگردوں کے ساتھ روح القدس کے وسیلے سے حکم دے کر اُٹھا لیا جانا جیسے کہ لکھا ہے اور اپنے شاگردوں سے مل کر اُس نے کہا کہ یروشلم سے باہر نہ جانا بلکہ باپ کے وعدے کا مُنتظر رہنا جس کا ذکر تم مجھ سے سُن چکے ہو کیونکہ یوحنا نے تو پانی سے بپتسمہ دیا مگر تھوڑے دنوں کے بعد تم روح القدس سے بپتسمہ پاؤ گے لیکن جب روح القدس تم پر نازل ہوگا تو تم قوت پاؤ گے یروشلم اور یہودیہ اور سامریہ بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ٹھہرو گے۔

یہ یسوع مسیح کے آخری الفاظ ہیں جو اُنہوں نے اپنے شاگردوں کے ساتھ ادا کیے۔ آگے لکھا ہے، یہ کہہ کر اُن کے دیکھتے دیکھتے اُپر اُٹھا لیا گیا اور بدری نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپا لیا۔ یہ میرے عزیز بہنوں بھائیوں یہ خداوند یسوع مسیح کا چلے جانا ہے اور آسمان پر اُٹھایا جانا، یہ ساری باتیں اُس نے زندہ ہو جانے کے بعد چالس دن تک شاگردوں کی ساتھ کیں، اُن کے ساتھ گھوما، بیٹھا، پھرا اور آسمانی بادشاہت کی باتیں کرتا رہا اور اُن کو آخری نصیحت کی کہ دیکھو یوحنا نے تو پانی سے بپتسمہ دیا لیکن تھوڑے دنوں کے بعد تم روح القدس سے بپتسمہ پاؤ گے۔

یہ خداوند یسوع المسیح کا وعدہ تھا اپنے شاگردوں کے ساتھ جو اُس نے کیا۔ یہ روح القدس کی طاقت ہے اور جب یہ طاقت آجاتی ہے تو یسوع مسیح کہتے ہیں کہ تم اِس طاقت کے وسیلہ سے یروشلم، یہودیہ، سامریہ بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ٹھہرو گے۔ تو عزیز بہنوں بھائیوں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ یہ کہتے کہتے آسمان پر اُٹھا لئے گئے اور اگر ہم اِس کا ذکر پڑھتے ہیں کہ عمال 2 باب میں کہ روح القدس پنتیکوست کے دن اُن پر آیا۔ جب روح القدس پطرس پر نازل ہوا تو اُس نے بلندہ آواز میں کہا کہ اے یہودیوں یروشلم کے رہنے والوں کان لگا کر میری بات سُنوں یہ مت سوچو کہ میں میہ کے نشے میں ہوں۔ یہ پاک روح کا نشا ہے اور اُس کے اِس پہلی منادی پر تین ہزار لوگ خداوند یسوع میں آگئے اور کلیسیا کا وجود بن گیا اور کلیسیا نے کام کرنا شروع کردیا۔

یہ یسوع مسیح کا مصلوب ہونا اور اُن کا آسمان پر جانے کا واقع میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ خداوند آپ کو برکت دے اور میں چاہوں گا کہ آپ کلامِ خدا کو بھی پڑھا کریں، قرآنِ پاک کو بھی پڑھیں۔ دیکھیں میں قرآنِ پاک کو پڑھتا ہوں، میں مسقاش شریف کو بھی پڑھتا ہوں، سہی بخاری کو پڑھتا ہوں، اسلام کی انسائیکلوپیڈیا کو پڑھتا ہوں تو کوئی ایسی غلط بات نہیں ہے یہ کتابوں کے اندر جو صفحات لکھیں ہیں المسیح کی اگر آپ غور سے پڑھیں تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ اُس میں مسیح کی صفات کا ذکر ہے۔ تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں خداوند آپ کو برکت دے، پھر ملیں گے ایک نئے ٹوپک کے ساتھ۔

پاسٹر پرویز کھوکھر

Previous post

یسوع المسیح کے نام میں نجات

Next post

The Abuse of Egypt's Coptic Christians

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.